7 دسمبر 2013 - 20:30
شام: جنوبی ترکی میں دہشت گردوں کے محفوظ گھر!

غیر ملکی دہشت گرد جنوبی ترکی میں واقع گھروں کو پناہگاہ اور شام میں دراندازی کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترک حکومت غیر ملکی دہشت گردوں کو جنوبی ترکی کے گھروں ميں بساتے ہیں جہاں سے وہ شام کے خلاف لڑنے کے لئے شام میں دراندازی کرتے ہیں۔ جنوبی ترکی میں ریحانلی سرحدی علاقے کے قریب ایک ایسے ہی گھر کے مالک نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ تین مہینوں کے دوران 20 برطانویوں سمیت 150 غیر ملکی مسلح افراد اس کے گھر میں رہے ہیں۔ اس شخص نے کہا: مسلح افراد عام طور ایک یا دو دن ان گھروں میں رہتے ہیں اور پھر شام میں منتقل کئے جاتے ہیں اور اگر زندہ بچ کر اپنے وطن کو لوٹ کر جانا چاہیں تو پھر بھی ان ہی گھروں میں ایک یا دو دن رہتے ہیں۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی شام میں منتقلی زیادہ منظم ہوگئی ہے جبکہ شام کی مقامی اپوزیشن کے راہنما کہتے ہیں کہ ان دہشت گردوں نے ان کی پرامن تحریک کو نیست و نابود کردیا ہے۔ ایک فرانسیسی دہشت گرد نے بتایا کہ ہزاروں غیر ملکی دنیا کے مختلف علاقوں سے شام میں آچکے ہیں اور میں ـ جو فرانس میں تعلیم حاصل کررہا تھا ـ ان ہی افراد میں سے ایک ہوں اور ہم سب القاعدہ کے اراکین ہیں۔ اس دہشت گرد نے کہا: میں ایک مسلح بریگیڈ کا رکن ہوں جو 8000 افراد پر مشتمل ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق شام آنے والے ہزاروں غیر ملکی دہشت گردوں میں 300 برطانوی بھی شامل ہیں۔ حکومت شام کے مقامی مخالفین کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد صرف حکومت شام کے خلاف ہی نہیں لڑرہے ہیں بلکہ فری سیرین آرمی پر بھی حملے کررہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭